Friday, February 2, 2018

سنگترہ کا استعمال اور اس کے فوائد

دل Heart اور Stomach معدہ کو قوت بخشتا ہے خون اور صفرا کی تیزی کو ساکن کرتا ہے۔ پیاس بجھاتا ہے ۔ جگر کی سوزش کو دور کرتا ہے۔ وباء کی زہر کو کاٹا ہے ۔ پیشاب جاری کرتا ہے۔ اس کو ہمیشہ کھانے کے 2 گھنٹے بعد کھانا اچھا ہوتا ہے اور کو نہ کھانا چاہئے ۔ایک وقت میں زیادہ سے زیادہ 5 عدد کھا سکتے ہیں ۔زیادہ کھانے سے پٹھوں کو کمزور کرتا ہے ۔

پھٹی ہوئی ایڑیوں کا دیسی اور گھریلو علاج

اگر پاؤں کی ایڑیاں پھٹی ہوئی ہوں تو موم اور چھوٹے گوشت کی چربی برابر مقدار میں لے کر آگ پر پگھلائی پاؤں پاؤں کی تندرستی بھی خوبصورتی میں شامل ہے۔یاد رکھیے کے حسین قامت کے لیے پاؤں بھی حسین ہونے چاہیں۔موسم سرمامیں تو بند جوتے اور جرابیں پہنی جاتی ہیں۔اس لیے پاؤں محفوظ رہتے ہیں۔اور ان کی زیبائش کی ضرورت نہیں رہتی۔مگر موسم گرما میں چپلیں اور سینڈل وغیرہ پہنے جاتے ہیں جن میں پاؤں کھلے رہتے ہیں ایسے میں ان کی صفائی اور زیبائش کی طرف خاص توجہ دینی چاہیے۔اس سلسلے میں درج ذیل باتوں کا خاص خیال رکھیں۔ ۱۔غسل کے دوران پاؤں میں صابن مل کر انہیں جھانویں سے صاف کریں۔ ۲۔ایڑیوں کی صفائی پر خاص توجہ دیں۔ ۳۔ہفتے میں ایک بار دوپہر کے وقت یا رات کو سونے سے پہلے پاؤں پر ویزلین کا لیپ کریں۔ایڑیوں پر ویزلین کا موٹا لیپ کریں۔لیپ اگر صبح کو کرے تو شام کو اور اگر رات کو کریں تو صبح کو پاؤں نیم گرم پانی سے دھوئیں اور پھر کھردرے تولیے سے اچھی طرح پاؤں رگڑیں۔ ۴۔اگر پاؤں کی ایڑیاں پھٹی ہوئی ہوں تو موم اور چھوٹے گوشت کی چربی برابر مقدار میں لے کر آگ پر پگھلائیں،اور بیشتر اس کے ٹھنڈی ہوجائے،اسے چھری کی مدد سے ایڑیوں پر لگائیں اور جرابیں پہن لیں،یہ عمل رات کو سونے سے پہلے کریں۔ ۵۔ہفتے میں ایک بار چلمچی میں نیم گرم پانی ڈالیں اس میں چائے کے دو چمچے نمک ملائیں۔اس پانی میں اپنے پاؤں دس منٹ تک بھگوئیں،پھر پاؤں کو جھانویں سے رگڑ کر صاف کریں،اس کے بعد صابن لگا کرجھانویں سے صاف کریں،پھر پاؤں کو ٹھنڈے پانی سے دھوئیں،پاؤں خشک کرکے کوئی لوشن،کریم،اسٹرنجنٹ یا یوڈی کلون لگائیں،اس سے تھکاوٹ دور ہوتی ہے۔ ۶۔تنگ جوتوں سے پاؤں میں چھالے پڑجاتے ہیں۔ایسے جوتے پہننے سے گریز کریں۔پاؤں پر چھالا پر جائے تو سوئی سے چھالے کو چھید کر مواد نکال دیں،اب ڈیٹول یا کسی اور جراثیم کش محلول میں روئی بھگو کر اسے صاف کریں اوپر بورک پاؤڈر چھڑک دیں۔ ۷۔اگرا ٓپ کے پاؤں میں پسینہ آتا ہے تو جوتا پہننے سے پہلے پاؤں کے تلووں پر پسی ہوئی پھٹکری ملیں،اس مقصد کے لیے بلاٹنگ پیپرکا تلا بھی جوتے میں رکھا جاسکتا ہے،لیکن یہ تلا روزانہ بدل دینا چاہیے۔ ۸۔اگرپاؤں پر معمولی قسم کے گٹے پڑ جائیں تو جوتا پہننے سے پہلے ان پر ٹشو پیپر کا ٹکڑا تہہ کرکے رکھیں۔اس مقصد کے لیے کارن پیڈ(Corn Pad) بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ ۹۔بعض اوقات پاؤں پر سردی یا دباؤ داغ یا لکیریں پڑجاتی ہیں۔اس کا علاج یہ ہے کہ پاؤں پر ملتانی مٹی کا لیپ کریں،بیس منٹ کے بعد پاؤں دھولیں،یہ عمل ہفتے میں تین بار کریں۔ ۱۰۔اگر آپ کے پاؤں پر سفید کھردرا مادہ جما ہوا ہو تو اس کو کیوٹیکل ریموور(Cuticle Remover) سے اتار دیں۔ ۱۱۔اپنے پاؤں کے ناخنوں کو نیل پالش سے پینٹ کریں۔اس سے پاؤں کا حسن دوبالا ہوجاتا ہے،مگر پاؤں کے ناخنوں پر پالش لگانے سے پہلے انگلیوں کے درمیانی روئی رکھیں تاکہ انگلیاں ایک دوسرے سے الگ ہوجائیں اور پالش ادھر اُدھر نہ لگے۔ ۱۲۔اونچی ایڑی کا جوتا پہننے سے بدہضمی بے خوابی اور دانتوں کی کئی بیماریاں پیدا ہوجاتی ہیں،اس لیے اونچی ایڑی کے جوتے نہ پہنیں۔ ۱۳۔اگر پاؤ ں میں بدبودار پسینہ آتا ہو اور جرابیں خراب ہوجاتی ہوں تو پوٹاشیم پر مینگنیٹ جسے پنکی بھی کہتے ہیں،گرم پانی میں ملا کر پاؤں دھویا کریں، ۱۴۔ہر ساتویں آٹھویں دن پاؤں کے ناخن بھی تراشتے رہنا چاہیے۔

Thursday, February 1, 2018

4 سیب کا روزانہ استعمال سے لازوال فائدے

سیب ایک مشہور پھل ہے ویسے تو دنیا میں سیب کی ڈیڑھ سو اقسام ہیں جو ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔مزاج کے حوالے سے سیب تین قسم کا ہوتا ہے۔ترش سیب اِسکا مزاج سرد خشک ہے،میٹھا سیب اسکا مزاج گرم خشک ہے،پھیکا سیب اسکا مزاج سردتر ہوتا ہے۔سیب ایک نہایت صحت اور طاقت بخش غذا ہے ایک سیب میں ایک سو کیلوریز ہوتی ہیں۔سیب کا ذکر قدیم مذہبی کتابوں میں بھی ملتا ہے۔دنیا میں یہ سب سے پہلے بحیرہ مردار اور بحیرہ کیپسین کے درمیان کاکس نامی مقام پر پیدا ہوتا تھا۔اہلِ رُوم اسکا بیج برطانیہ لے گئے پھر برطانیہ سے امریکہ لایا گیاآج کل اسکی پیداوار دنیا کے ان تمام حصوں میں ہو رہی ہے جہاں نہ ذیادہ سردی ہوتی ہے نہ زیادہ گرمی۔دوسری جنگِ عظیم کے بعد اسکی پیداوار بہت بڑھ گئی۔فرانس ،جرمنی،اٹلی اورامریکا میں سیب سب سے زیادہ پیدا ہوتا ہے،دنیا میں اسکی سالانہ تجارت چار کروڑ من ہے اٹلی سب سے زیادہ برآمد کرتا ہے اور مغربی جرمنی سب سے زیادہ درآمد کرتا ہے تازہ سیب میں چوراسی فیصد پانی ہوتا ہے اور باقی ٹھوس۔اس میں زیادہ تر کھانڈ اور پروٹین ہوتا ہے سیب میں فاسفورس تمام پھلوں اور سبزیوں کی نسبت زیادہ پایا جاتا ہے،سیب کا چھلکا اُتار دینے سے ایک قیمتی جزو پھینک دینے کے مترادف ہے اس لیے اسکا چھلکا ضائع نہ کیا جائے سیب کے متواتر استعمال سے صحت وشباب کو چار چاند لگ جاتے ہیں روزانہ صبح خالی پیٹ تین سے چار سیب کھاکر اُوپر سے دودھ پینے سے صحت قابلِرشک ہو جاتی ہے۔جِلد کا رنگ سُرخ وسفید ہو جاتا ہے۔جسم کی تمام کمزوریاں ختم ہو جاتی ہیں۔سیب معدہ میں جا کرپیپین کو تیز کرتا ہے اور ہاضمہ میں مدد دیتا ہے۔خالی معدہ سیب کھانا بھوک بڑہاتا ہے۔رات کو سوتے وقت اور صبح خالی پیٹ سیب کھانادائمی قبض کو ختم کرتا ہے۔سیب کھانے سے جسم سے سستی ختم اور چستی آتی ہے۔معدہ اور جگر کے افعال تیز ہو جاتے ہیں جس سے لازمی طور پر جسمِ بدنی میں اضافہ ہوتا ہے سیب میں فاسفورس کی موجودگی دماغی کام کرنے والوں کے لیے خداداد نعمت ہے۔سیب میں فولاد کا جزو پایا جاتا ہے جسکی وجہ سے یہ خون کے سُرخ ذرات میں اضافہ کرتا ہے۔دل کی طاقت کے لیے سیب دنیا کی قیمتی ترین ادویات سے افضل ہے۔دل کی کمزوری والے حضرات سیب کا مربہ استعمال کریں۔گُردوں کو صاف کرنا بھی سیب کا فعل ہے۔سیب میں قدرت نے بے پناہ خوبیاں رکھی ہیں ۔سیب کو چھلکے کے ساتھ کھائیں اگر سیب کا جوس بنا کر استعمال کریں گے تو ایک تحقیق کے مطابق وہ ایک چینی والے مشروب سے زیادہ افادیت نہیں رکھتا

Wednesday, January 31, 2018

بڑھتے پیٹ اور گیس کو کنٹرول کرنے کا آسان نسخہ

پیٹ کی گیس اور بڑھتے پیٹ کے امراض میں آئے روز آضافہ ہوتا جا رہا ہے اگر ہم ایک اس سادہ سے نسخے پر عمل کریں تو اس مرض پر قابو پایا جا سکتا ہے پانی ۔ 8 گلاس گلِ یاسمین چائے ۔ 6 چائے کے چمچ اجوائن دیسی ۔ 1 چائے کا چمچ مالٹ سرکہ ۔ 1 چائے کا چمچ دارچینی کا پاؤڈر ۔ 1 چٹکی شہد ۔ حسب ذائقہ کلونجی ۔ 1 چوتھائی چمچ گلِ یاسمین چائے ، اجوائن اور سِرکہ پانی میں ڈال کر اچھی ظرح پکا لیں اور فریج میں رکھ لیں ۔ جب پینا ہو تو شہد ، دار چینی کا پاؤڈر اور کلونجی ڈال کر روزانہ 1 کپ پی لیں ۔ اس سے آپ کے پیٹ کی گیس کا مسئلہ دور ہو گا اس کے ساتھ ساتھ بڑھا ہوا پیٹ بھی کم ہو گا۔ کھانے کے بعد 15 منٹ چہل قدمی لازمی کریں ۔

نہار منہ چائے کافی کا استعمال نقصان یا فائدہ

اگر تو صبح اٹھتے ہی خالی پیٹ یا نہار منہ آپ چائے یا کافی پینے کے عادی ہیں تو یہ عادت انتہائی خطرناک ثابت ہوسکتی ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق کچھ لوگوں کی یہ عادت ہوتی ہے کہ صبح اٹھتے ہی چائے یا کافی کی طلب پوری کرنا پسند کرتے ہیں۔ ایسے افراد کو یہ گرم مشروبات نہ صرف مزیدار لگتا ہے بلکہ وہ اسے فائدہ مند بھی تصور کرتے ہیں لیکن حقیقت میں نہار منہ چائے کافی وغیرہ انسانی صحت کے لیے انتہائی نقصان دہ عمل ہے۔ چائے اور کافی جسم اور دماغ پر کیا اثرات مرتب کرتے ہیں؟ بدقسمتی سے خالی پیٹ ان مشروبات کا استعمال صحت کے لیے منفی اثرات کا باعث بنتی ہے۔ جی ہاں نہار منہ چائے یا کافی کا استعمال چستی کا احساس ہی نہیں دلاتا بلکہ بیمار بھی کرسکتا ہے۔ ایک طبی تحقیق کے مطابق خالی پیٹ ان کیفین والے مشروبات کا استعمال آنتوں میں مسائل کا باعث بن سکتا ہے جبکہ ذہنی بے چینی کا عارضہ بھی لاحق ہوسکتا ہے۔ تحقیق میں بتایا گیا کہ یہ مشروبات معدے میں ایسڈ کی پیدوار بڑھاتے ہیں اور یہ اضافی ایسڈ نظام ہاضمہ کے لیے مسائل کا باعث بن سکتا ہے۔ اسی طرح یہ تیزابیت سینے میں جلن اور بدہضمی کا باعث بھی بنتی ہے جبکہ معدے کی لائننگ کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ تحقیق کے مطابق اگر آپ ذہنی بے چینی کے عارضے کا شکار ہیں تو یہ گرم مشروبات اس حالت کو بھی بدترین بناسکتے ہیں۔ محققین کا کہنا تھا کہ ضروری نہیں کہ سب افراد کو یہ مسئلہ لاحق ہو، مگر یہ عادت بیشتر افراد کے لیے خطرہ ضرور بڑھا سکتی ہے۔ اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے جرمن میڈیکل جرنل میں شائع ہوئے۔

مرد و خواتین کے لیے نایاب تحفہ

پتھر والی چکی سے پسے ہوئے آٹے کا چھان محفوظ رکھیں ۔ پتی کی جگہ اس کی چاے بناکر استعمال کرے بہت اعلیٰ نسخہ ہے فوائد سپرمز زیادہ کرتا ہیں اعصابی کمزوری ختم ہوتی ہیں ریڑھ کی ہڈی کو طاقتور بناتا ہے علامہ مشرقی فرماتے ہیں الله پاک نے اس میں بہت طاقت رکھی ہے سب سے چھوٹا فائدہ ایک نامرد کو مرد بنادیتا ہے بہت ہی اچھا نسخہ ہے عورتوں مردوں بچوں سب کے لئے فائدہ مند ہیں میں نے کافی لوگوں کو استعمال کروایا ہے الله کی رحمت سے الله نے شفاء عطا فرمائی

منہ کی بدبو ختم کرنے کا آسان طریقہ

منہ کی بدبو اکثر الٹی سیدھی چیزیں کھانے اور منہ کی صفائی نہ کرنے سے پیدا ہوتی ہے جس کی وجہ سے اکثر اوقات لوگوں کے سامنے شرمندگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے یہ ہمارے اعتماد کو بھی پست کر دیتی ہے۔ وہ خواتین اور مرد حضرات جو اپنے منہ کی بو کی وجہ سے پریشان ہیں اب انہیں مزید پریشان ہونے کی ضرورت نہیں کیونکہ آج ہم آپ کو ایسے طریقے بتائیں گے جن سے منہ کی بدبو آپ کے قریب بھی نہ آسکے گی۔ منہ کی بدبو کو دور کرنے کے لئے چھوٹی الائچی منہ میں رکھ لیا کریں اس سے بدبو دور ہوجاتی ہے۔ عرقِ گلاب میں لیموں نچوڑ کر اس سے غرارے کرنے سے منہ کی بدبو دور ہوجاتی ہے۔ پھولوں کی پتیوں کو دانتوں پر مسلنے سے بھی منہ کی بدبو ختم ہوجاتی ہے۔ سیب کھایا کریں !۔۔کیونکہ سیب قدرتی طور پر منہ کی صفائی کا فریضہ بھی انجام دیتا ہے۔ دار چینی کی چائے منہ اور سانسوں کو مہکائے رکھتی ہے اسی لئے روزانہ ایک کپ دار چینی کی چائے پی لیا کریں۔ دس سے بارہ نیم کے پتوں کو ایک گلاس پانی میں ابال لیں پھر ٹھنڈا ہونے پراس سے غرارا کرلیں اس کے باقائدہ استعمال سے منہ کی بدبو کا نشان بھی باقی نہیں رہتا۔ نیم گرم پانی میں نمک ملا کر غرارے کرنے سے بھی منہ کی بدبو ختم ہوجاتی ہے کیونکہ نمک میں پائے جانے والے عناصر منہ سے مردہ خلیوں کو نکال دیتے ہیں ۔ رات کو منہ صاف کرکے ایک ادرک کا ٹکڑا منہ میں چبائیں اور اس کے رس کو پورے منہ میں گردش دیں اس کے بعد پانی نہ پئیں صبح جب اٹھیں گے تو بو کانام ونشان بھی نہیں ہوگا۔ ان تمام عوامل میں سے کسی ایک پر بھی عمل کرکے منہ کی بدبو سے ہمیشہ کے لئے چھٹکارا پایا جاسکتا ہے اوربدبو جب ختم ہوجائے گی تو یہ یقیناََ آپ کے اعتماد میں بھی سو فیصد اضافے کا باعث بنے گی۔

Tuesday, January 30, 2018

چہرے کی چھائیوں کا مکمل خاتمہ

جو خصوصاً چہرے پر نمودار ہو کر اچھے بھلے حسن کو گہنا دیتی ہیں، چہرے یا جسم کے مختلف حصوں پر فریکلز نمودار ہونے کی سب سے اہم وجہ سورج کی تیز روشنی ہے۔ دراصل انسانی جسم میں میلانوسائٹس خلیے پورے جسم میں میلا نن پیدا کرتے ہیں میلانن جلد کی قدرتی رنگت کو برقرار رکھنے میں مدد دیتا ہے، لیکن جسم کے کسی بھی حصے میں میلانن کی مقدار زیاد ہ ہونے پر وہاں بھورے رنگ کے چھوٹے چھوٹے دھبے نمودار ہو نے لگتے ہیں اور سورج کی شعاعیں ان میں مزید اضافے کا سبب بنتی ہیں۔اس لئے باہر نکلنے سے پہلے چہر ہ کو چادر یا چھتری وغیرہ سے ڈھانپ لیں۔ اس کے علاوہ چھائیوں کے خاتمے کے لئے زبردست نسخہ درج ذیل ہے۔ چھائیوں سے نجات کے لئے ملتانی مٹی : ایک چائے کا چمچ عرق گلاب : ایک چائے کا چمچ دہی : ایک کھانے کا چمچ لیموں کا رس : ایک عدد لیموں کا رس شہد : ایک چائے کا چمچ ترکیب اور طریقہ استعمال دہی ، لیموں کا رس، شہد اورعرق گلاب کو کسی برتن میں ڈال کر اچھی طرح مکس کرلیں۔ اب اس میں ملتانی مٹی شامل کریں اور چمچ کی مدد سے اچھی طرح تمام اشیاء کو یکجان کر لیں۔ اب اس پیسٹ کو چہرے پر پھیلا لیں ،خاص کر ان حصوں پر جہاں چھائیوں کا مسئلہ زیادہ ہوں۔اسے 20 منٹ تک لگا رہنے دیں اور پھر سادہ پانی سے چہرہ دھو لیں۔ ہفتے میں دو دفعہ استعمال کرنے سے ہی چہرے کی چھائیوں کا مکمل خاتمہ ہو جائے گا۔ چہرے کے دانے زیادہ تر چکنی جلد پر نکلتے ہیں۔ چہرے کی صفائی کا خاص خیال رکھنا چاہئے، قبض کا مسئلہ زیادہ دیر نہ رہنے دیں۔ دن میں زیادہ سے زیادہ پانی کا استعمال کریں۔ کیل مہاسوں اور دانوں کو چھیڑنا نہں چاہئے، بیسن سے منہ دھویا کریں اور رات کو نیم کے صابن سے منہ دھو کر سویا کریں تا کہ اندر سے بھی میل کچیل نکل جائے۔ رات کو سونے سے پہل کیلے کے چھلکے کا اندر والا سفید گودا چھری کی مدد سے کھرچ کر چھائیوں پر اچھی طرح لگائیں اورسو جائیں اور صبح اٹھ کرچہرہ دھوئیں ۔ اس سے بھی چہرے کی چھائیاں ختم ہو جائیں گی۔
خوشگوار اور پر سکون ازدواجی زندگی کا راز میاں بیوی کسی دوسر ے شہر سے وہاں آ کر آباد ہوئے، کچھ ہی عرصے کے دوران محلے بھر میں خاتون خانہ اور ان کے شوہر میں بے مثال ہم آہنگی اور بہتری ازدواجی تعلقات کی دھوم مچ گئی... لوگ حیران ہوتے کہ ان میاں بیوی کی شادی کو پچیس تیس سال ہوچکے ہیں، لیکن ابھی تک یہ آپ میں ایک دوسرے سے اس قدر جڑے ہوئے ہیں اور ان کی باہمی محبت دیدنی ہے، محلے کی چند عورتیں ایک بار اکٹھی ہوکر خاتون کے پاس گئیں اوران کی شاندار ازدواجی زندگی کا راز پوچھا...؟ خاتون نے ان کا خیرمقدم کیا، خاطر مدارت کی اور پھر جب سوال سنا تو مسکرا کر بولی : ” آپ لوگوں کے خیال میں کیا وجہ ہوسکتی ہے...؟ “ عورتوں نے جواب دیا،میاں بیوی میں بہت اچھا تعلق اور باہمی محبت کے پیچھے چار پانچ فیکٹرز ہوتے ہیں بیوی بہت اچھے کھانے پکاتی ہو اور یوں معدے کےراستے خاوند کے دل میں گھر کر لے، وہ خوبصورت ہو اور خاوند اس کی جسمانی خوبصورتی کا اسیر ہوجائے، اس کا نسب اعلیٰ ہو اور خاندانی وجاہت کی وجہ سے مرد اس کا احترام کرنے پر مجبور ہو، اولاد سعادت مند ہوجس کی وجہ سے خاوند خوش ہو اور اولاد کی تربیت پراپنی بیوی کاممنون ہوجائے، سب سے آخری وجہ وہ ٹوٹکا یا جادو ہوسکتا ہے، جس کی وجہ بیوی مرد کو ہاتھ تلے رکھنے پر مجبور کر دیتی ہے... ” یہ جواب سن کر وہ خاتون مسکرائی اور ان کی تصحیح کرتے ہوئے بولی : ” کھانا بہت اہم ہے اور اس کے ذریعے خاوند کو خوش رکھا جاسکتا ہے،لیکن کھانے میں اونچ نیچ ہوتی رہتی ہے اور کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ کھانا باعث نزاع بن جائے، جسمانی خوبصورتی کی ایک معیاد ہوتی ہے، وقت کے ساتھ یہ ڈھل جاتی ہے،اپنی خوبصورتی کو کسی حد تک عمر کے ساتھ ساتھ برقرار بھی رکھا جا سکتا ہے، لیکن بیماریاں بھی انسان کے تعاقب میں ہوتی ہیں، معمولی سی غفلت کسی سنگین بیماری تک پہنچا دیتی ہے اور آخر جسمانی حسن کا سحر ٹوٹ جاتا ہے، اعلیٰ نسب یا خاندانی وجاہت سے مرد جلد اکتا جاتا ہے اور پھر یہ کارڈ بے اثر ہوجاتا ہے... سعادت مند اولاد مرد کا فخر ہے، لیکن یہ یاد رکھیں کہ اولاد کی اچھائیاں باپ کے کھاتے میں جاتی ہیں اور برائیاں ماں کے،اور ظاہر ہے باپ کی نظر سے اولاد کی خامیاں اوجھل نہیں رہ سکتیں، کوئی نہ کوئی نظر آ ہی جاتی ہے اور لڑائی کو پھر کوئی نہیں روک سکتا، ہاں آخری بات ایسی ہے جو مفید ہے، مرد کو ٹوٹکے یا جادو کے ذریعے قابو کیا جاسکتا ہے۔“ جادو والی بات سن کر فطری طور پر خواتین کی رگ تجسس پھڑکی، ا نہوں نے جادو کی تفصیل پوچھنی چاہی کہ کوئی تعویز ہے یا دم کی ہوئی چینی یا پھر کچھ اور...؟ اس پر جہاندیدہ عربی خاتو ن نے اپنی کامیاب زندگی کا نچوڑ بتاتے ہوئے کہا کہ نہیں ایسا کچھ نہیں،جادو کے تین جملے ہیں اور دو بنیادی اصول... جادو کے جملے ہیں... ”جی اچھا، بہت بہتر ، آئندہ یہ نہیں ہوگا “ جبکہ دو اصول یہ ہیں... ”اپنی غلطی کا کبھی دفاع نہ کرنا اور تنقید کومثبت لیتے ہوئے اسے انا کا مسئلہ نہ بنانا۔“ پھر اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا... ” جب میری شادی ہوئی تو شروع میں بڑی پریشان ہوئی، خاوند ایک سرکش، اڑیل گھوڑے کی مانند تھا، جو بات بات پر بدک جائے، غصہ جلدی آجاتا اور پھر جب بحث کی جاتی تو یہ انتہا پر پہنچ جاتا، ادھر میں بھی گھر کی لاڈلی تھی،تھوڑی سی تنقید مجھے مضطرب اور پریشان کر دیتی، غلطی ہوجانے کے بعد تسلیم نہ کرتی بلکہ الزام دوسروں پر دھر دیتی،میری انا مجھے منفی رخ پر لے جا رہی تھی، قریب تھا کہ ہماری شادی ختم ہوجاتی، مگر ایک روز میری ایک بزرگ عزیزہ ملنے آئیں، ایک دو دن رہیں تو انہیں سب چیزوں کا اندازہ ہوگیا، انہوں نے مجھے جادو کے ان تین جملوں اور دو اصولوں سے روشناس کرایا اور سمجھایا کہ انہیں اپنی زندگی کا وتیرہ بنا لوں... میں نے ایسا ہی کیا اور اس کے بعد سے زندگی ہی بدل گئی، میں نے خاوند سے بحث میں الجھنا ہی چھوڑ دیا، جب اپنی غلطی ہوتی تو فوراً اسے تسلیم کر لیتی اور پھر اسے دوبارہ نہ دہرانے کا عہد کرتی، جب غلطی میری نہ ہوتی، تب بھی خاموش ہوجاتی خاوندآگ بگولا ہوتا تو اسے جادو کے تین جملوں سے ٹھنڈا کرلیتی، چیزوں کا انا کا مسئلہ بنانا چھوڑ دیا، آہستہ آہستہ اندازہ ہوا کہ جن باتوں کو آج ہم پہاڑ جتنا بڑا سمجھ رہتے ہوتے ہیں، کچھ عرصے بعد وہ چیونٹی کی طرح ننھی نظر آنے لگتیں ہیں، خاوند کے غصے کا ترکی بہ ترکی جواب نہ دینے کا یہ فائدہ ہوا کہ اس کا پارہ فوراً نیچے آجاتا اور پھر وہ اپنی غلطی کا احساس کر کے پیار بھری باتیں کرنے لگتا، رفتہ رفتہ اس نے غصہ کرنا ہی کم کر دیا، یوں اپنے جادو کی وجہ سے معاملہ سدھر گیا۔“ محلے کی عورتیں جو یہ طولانی تقریر سن کر بور ہو رہی تھیں، چڑ کر بولیں... ” آپ کی باتیں عجیب ہیں، آخر ہم اپنے خاوندوں کے ہاتھوں عزت نفس کیوں مجروح کرائیں،پھر ڈانٹ کے بعد میاں کی پیار بھری باتوں پر کس طرح یقین کیا جائے...؟ سب سے بڑھ کر یہ کہ آخر عورت ہی کیوں تنقید برداشت کرے...؟ تجربہ کار خاتون نے جواب دیا، دیکھو چند باتیں سمجھ لو تو یہ سب شکوے شکایتیں ختم ہوجائیں گے، عورت گھر کی مالکہ ہے اور مرد مکان کا... بچے اگر باہر گلی میں گڑبڑ کریں گے تو محلے والوں کی ناراضی کانشانہ مالک مکان کو بننا پڑے گا، گھر کے اندر مسائل پیدا کریں گے تو گھر کی مالکہ کو، بیوی کو ویسے بھی شوہر کا نباض ہونا چاہیے، جراح نہیں۔ یہ سرجری، جراحی کا کام وقت پر چھوڑ دینا چاہیے۔ بیوی کو اپنے لئے محفوظ قلعہ چاہیے ہوتا ہے اور مرد کو سکون۔ خوشگوار گھریلو زندگی میں دونوں کو اپنی پسند کی چیزیں مل جاتی ہیں، رہی عزت نفس تو وہ انسان اپنے ہاتھوں خود مجروح کرتا ہے، کوئی بھی معقول شخص بلاوجہ غصہ نہیں کرتا،اس لئے وجہ کا سبب بننے والے کو کبھی غصہ برداشت بھی کر لینا چاہیے، اس کی ہمت اور قوت پیدا کی جائے۔ اب بچا آخری سوال کہ عورت ہی کیوں...؟ جواب ہے کہ عورت نہیں بلکہ ماں یا بیوی!!! یوں سمجھ لو کہ جو ذمہ دار ہوگا، وہ برداشت کرے گا، سب سے بڑھ کر یہ اپنے اندرتحمل، برداشت اور انڈرسٹینڈنگ لاکر بہت سے بڑے بڑے مسائل کو جنم لینے سے روکا جا سکتا ہے، آخری تجزیے میں گھر اور زندگی کا سکون اہمیت رکھتا ہے، ٹکراﺅ، مقابلہ بازی اور انا کی تسکین وقتی آسودگی تو دے سکتی ہے، مگر جو کانٹے اس کے نتیجے میں پیدا ہوں گے، وہ ہر حال میں ہمیں ہی چننے پڑیں گے

کیل چھائیاں داغ دھبے کیوں ہوتے ہیں .

ﮐﯿﻞ ﻣﮩﺎﺳﮯ ﮐﯿﺎ
ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﺎ ﻋﻼﺝ
ﭘﻤﭙﻞ ﯾﺎ ﮐﯿﻞ ﯾﺎ ﻣﮩﺎﺳﮯ ﻋﺎﻡ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﺳﮯ ﻟﮍﮐﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﻟﮍﮐﯿﻮﮞ
ﮐﮯ ﭼﮩﺮﻭﮞ ﭘﺮ ﻧﮑﻠﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺟﻮﺍﻧﯽ ﯾﺎ ﺷﺒﺎﺏ ﮐﯿﺂﻣﺪ ﮐﺎ
ﺍﻋﻼﻥ ﺳﻤﺠﮫ ﻟﯿﺠﺌﮯ ۔ ﯾﮧ ﮐﯿﻞ ﺍﻭﺭ ﻣﮩﺎﺳﮯ ﻋﺎﻡ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﮨﻤﺎﺭﮮ
ﺟﺴﻢ ﭘﺮ ﭼﮑﻨﺎﺋﯽ ﭘﯿﺪﺍ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﻏﺪﻭﺩ ﮐﯽ ﺑﯿﻤﺎﺭﯼ ﮨﮯ ۔
ﻣﮩﺎﺳﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﯿﻞ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺗﺮ ﺟﺴﻢ ﮐﮯ ﺍﺱ ﺣﺼﮯ ﭘﺮ ﻧﮑﻠﺘﮯ ﮨﯿﮟ
ﺟﮩﺎﮞ ﭼﮑﻨﺎﺋﯽ ﭘﯿﺪﺍ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﻏﺪﻭﺩ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺗﻌﺪﺍﺩ ﻣﯿﮟ
ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ۔ ﭼﮩﺮﮮ، ﻣﺎﺗﮭﮯ، ﺭﺧﺴﺎﺭ، ﮔﺮﺩﻥ، ﺳﯿﻨﮯ، ﮐﮯ
ﺑﺎﻻﺋﯽ ﺣﺼﯿﺎﻭﺭ ﮐﺎﻧﺪﮬﻮﮞ ﭘﺮ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﭼﮑﻨﺎﺋﯽ ﮐﮯ ﯾﮧ ﻏﺪﻭﺩ
ﺍﻧﺪﺭﻭﻧﯽ ﺗﮩﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮞﺎﻭﺭ ﭼﮭﻮﭨﯽ ﭼﮭﻮﭨﯽ
ﺑﺎﺭﯾﮏ ﻧﺎﻟﯿﻮﮞ ﮐﮯ ﺫﺭﯾﻌﮯ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺟﺴﻢ ﺳﮯ ﭘﺴﯿﻨﮧ ﺑﮭﯽ ﺧﺎﺭﺝ
ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ۔ ﭼﮭﻮﭨﯽ ﭼﮭﻮﭨﯽ ﻧﺎﻟﯿﺎﮞ ﺑﺎﺭﯾﮏ ﺑﺎﺭﯾﮏ ﻣﺴﺎﻣﻮﮞ ﺍﻭﺭ
ﺳﻮﺭﺍﺧﻮﮞ ﮐﯽ ﺷﮑﻞ ﻣﯿﮟ ﺟﻠﺪ ﭘﺮ ﻇﺎﮨﺮ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺻﺮﻑ
ﺧﻮﺭﺩ ﺑﯿﻦ ﮐﮯ ﺫﺭﯾﻌﮯ ﯾﮧ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﮯ ﺟﺴﻢ ﭘﺮ ﺩﯾﮑﮭﯽ ﺟﺎ
ﺳﮑﺘﯽ ﮨﯿﮟ ﺍﻥ ﺳﻮﺭﺍﺧﻮﮞ ﮐﮯ ﺫﺭﯾﻌﮯ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﮯ ﺟﺴﻢ ﮐﮯ ﺑﺎﻝ
ﺑﮭﯽ ﺑﯿﺮﻭﻧﯽ ﺳﻄﺢ ﭘﺮ ﻇﺎﮨﺮ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ۔
ﺟﻦ ﻏﺪﻭﺩﻭﮞﮑﯽ ﻧﺎﻟﯿﻮﮞ ﺳﮯ ﺑﺎﻗﺎﻋﺪﮔﯽ ﺳﮯ ﭼﮑﻨﺎﺋﯽ ﺍﻭﺭ
ﭘﺴﯿﻨﮯ ﮐﺎ ﺍﺧﺮﺍﺝ ﮨﻮﺗﺎ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ ﻭﮨﺎﮞ ﭘﺮ ﭼﮑﻨﺎﺋﯽ ﮐﯽ ﻧﺎﻟﯿﺎﮞ ﺍﭘﻨﺎ
ﮐﺎﻡ ﮐﺴﯽ ﺭﮐﺎﻭﭦ ﮐﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﺳﺮ ﺍﻧﺠﺎﻡ ﺩﯾﺘﯽ ﺭﮨﺘﯽ ﮨﯿﮟ ﻣﮕﺮ
ﺟﮩﺎﮞ ﭘﺮ ﭼﮑﻨﺎﺋﯽ ﮐﯽ ﮐﺜﺮﺕ ﯾﺎ ﺻﻔﺎﺋﯽ ﮐﯽ ﮐﻤﯽ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ
ﺳﮯ ﻧﺎﻟﯿﺎﮞ ﺑﻨﺪ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﯿﮟ ﻭﮨﺎﮞ ﺍﻥ ﻧﺎﻟﯿﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻟﯿﺲ ﺩﺍﺭ
ﻣﺎﺩﮮ ﮐﮯ ﺟﻤﻊ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺟﻠﺪ ﮐﮯ ﺍﻭﭘﺮ ﮐﯿﻞ ﯾﺎ
ﻣﮩﺎﺳﮯ ﺑﻨﻨﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮨﻮﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﻣﮕﺮ ﺟﮩﺎﮞ ﺟﮩﺎﮞ ﺑﺎﻝ ﮨﻮﺗﮯ
ﮨﯿﮟ ﻭﮦ ﺍﻥ ﻧﺎﻟﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﮐﮭﻮﻟﮯ ﺭﮐﮭﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﭼﮑﻨﺎﺋﯽ ﺟﻤﻊ
ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮ ﭘﺎﺗﯽ ۔ ﯾﮩﯽ ﻭﺟﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺑﺎﻟﻮﮞ ﻭﺍﻟﮯ ﺣﺼﻮﮞ ﻣﺜﻼْ
ﺩﺍﮌﮬﯽ ﻣﻮﻧﭽﮭﻮﮞ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﮐﯽ ﺟﮕﮧ ﭘﺮ ﮐﯿﻞ ﺍﻭﺭ ﻣﮩﺎﺳﮯ ﮐﻢ
ﻧﮑﻠﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺟﻦ ﺣﺼﻮﮞ ﭘﺮ ﺑﺎﻝ ﮐﻢ ﮨﻮﮞ ﻣﺜﻼْ ﺭﺧﺴﺎﺭ ،
ﻧﺎﮎ ﺍﻭﺭ ﻣﺎﺗﮭﮯ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﻭﮨﺎﮞ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺍﮐﺜﺮﯾﺖ ﮨﻮﺗﯽ
ﮨﮯ ۔
ﯾﮧ ﺑﺎﺕ ﺳﺐ ﮐﮯ ﻣﺸﺎﮨﺪﮮ ﻣﯿﮟ ﺁﺋﯽ ﮨﻮﮔﯽ ﮐﮧ ﻧﻮ ﺟﻮﺍﻥ ﻟﮍﮐﮯ
ﺍﻭﺭ ﻟﮍﮐﯿﻮﮞ ﮐﮯ ﭼﮩﺮﮮ ﭘﺮ ﻣﺨﺘﻠﻒ ﺳﺎﺋﺰ ﮐﮯ ﺳﺮﺥ ﺍﻭﺭ ﮔﻼﺑﯽ
ﺭﻧﮓ ﮐﮯ ﺩﺍﻧﮯ ﻧﮑﻠﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﯾﮧ ﻋﻤﻮﻣﺎْ ﺳﺨﺖ ﺍﻭﺭ ﮔﻮﻝ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ
ﻟﯿﮑﻦ ﺻﻔﺎﺋﯽ ﮐﯽ ﮐﻤﯽ ﯾﺎ ﺟﺮﺛﻮﻣﻮﮞ ﮐﮯ ﺣﻤﻠﮯ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ
ﺍﻧﻔﯿﮑﺸﻦ ﮐﺎ ﺷﮑﺎﺭ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﭘﯿﭗ ﭘﮍ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ
ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺭﻧﮕﺖ ﭘﯿﻠﯽ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ﺗﺐ ﯾﮧ ﺍﯾﮏ ﭘﮭﻨﺴﯽ ﮐﯽ
ﺷﮑﻞ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﮐﺮ ﻟﯿﺘﮯ ﮨﯿﮟ ۔ ﺑﻌﺾ ﺍﻭﻗﺎﺕ ﺍﻧﺪﺭ ﺳﮯ ﮐﭽﮫ
ﻣﮩﺎﺳﻮﮞ ﮐﯽ ﻧﺎﻟﯿﺎﮞ ﻣﻞ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺟﻠﺪ ﮐﮯ ﺍﻭﭘﺮ ﺍﯾﮏ
ﭘﮭﻮﮌﺍ ﺑﻦ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﮨﺮ ﻭﻗﺖ ﺭﻃﻮﺑﺖ ﺑﮭﺮﯼ ﺭﮨﺘﯽ ﮨﮯ
ﺟﻦ ﻣﮩﺎﺳﻮﮞ ﮐﯽ ﺟﮍﯾﮟ ﺟﻠﺪ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﮔﮩﺮﯼ ﺭﮨﺘﯽ ﮨﯿﮟ ﻭﮦ
ﭨﮭﯿﮏ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﺎﻭﺟﻮﺩ ﭼﮩﺮﮮ ﭘﺮ ﺩﮬﺒﮯ ﭼﮭﻮﮌ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ
ﺑﻌﺾ ﺍﻭﻗﺎﺕ ﭼﮩﺮﮮ ﭘﺮ ﯾﮧ ﻧﺸﺎﻥ ﻣﺴﺘﻘﻞ ﺩﮬﺒﻮﮞ ﮐﯽ ﺷﮑﻞ
ﻣﯿﮟ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﺭﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﺒﮑﮧ ﭼﮭﻮﭨﮯ ﮐﯿﻞ ﺍﻭﺭ ﻣﮩﺎﺳﮯ ﺟﻦ
ﮐﯽ ﺟﮍﯾﮟ ﺟﻠﺪ ﮐﮯ ﻗﺮﯾﺐ ﮨﻮﮞ ﯾﺎ ﻧﺎﻟﯿﺎﮞ ﮨﻮﮞ ﺗﻮ ﺍﯾﺴﮯ ﻣﮩﺎﺳﮯ
ﭨﮭﯿﮏ ﮨﻮ ﮐﺮ ﭼﮩﺮﮮ ﭘﺮ ﺩﺍﻍ ﻧﮩﯿﮟ ﭼﮭﻮﮌﺗﮯ ﺍﮔﺮ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻧﺸﺎﻥ
ﺑﻨﯿﮟ ﺗﻮ ﻭﻗﺖ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﭼﮩﺮﮮ ﺳﮯ ﺻﺎﻑ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ۔
ﺍﻗﺴﺎﻡ
ﭼﮩﺮﻭﮞ ﭘﺮ ﻧﮑﻠﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﻣﮩﺎﺳﻮﮞ ﮐﯽ ﺑﮩﺖ ﺳﯽ ﺍﻗﺴﺎﻡ ﮨﯿﮟ ﮨﺮ
ﺷﺨﺺ ﻣﯿﮟ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻧﮑﻠﻨﮯ ﮐﯽ ﻋﻤﺮ ﺍﻭﺭ ﻭﺟﻮﮨﺎﺕ ﻣﺨﺘﻠﻒ ﮨﻮ
ﺳﮑﺘﯽ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﮏ ﺟﯿﺴﯽ ﺑﮭﯽ ۔ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺍﻭﺭ ﻋﺎﻡ
ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﻧﮑﻠﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﻣﮩﺎﺳﮯ ﺟﻨﮩﯿﮟ ﻋﺮﻑ ﻋﺎﻡ ﻣﯿﮟ ”ﺍﯾﮏ ﻧﯽ
ﻭﻟﮕﺎﺭﺱ”ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﻋﻤﻮﻣﺎْ ﺩﺱ ﺳﺎﻝ ﮐﯽ ﻋﻤﺮ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺩﻭﺳﺮﯼ
ﺩﮨﺎﺋﯽ ﻣﯿﮟ ﭼﮩﺮﮮ ﭘﺮ ﻧﮑﻠﻨﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﭘﻨﺪﺭﮦ
ﺳﺎﻝ ﮐﯽ ﻋﻤﺮ ﻣﯿﮟ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﻣﮕﺮ ﻋﻮﺭﺗﻮﮞ ﻣﯿﮟ
ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺩﮨﺎﺋﯽ ﮐﮯ ﺁﺧﺮ ﻣﯿﮟ ﯾﺎ ﺑﯿﺲ ﺳﺎﻝ ﮐﯽ ﻋﻤﺮ ﻣﯿﮟ ﯾﺎ
ﺑﻌﺾ ﺍﻭﻗﺎﺕ ﺗﯿﺲ ﯾﺎ ﭘﯿﻨﺘﯿﺲ ﺳﺎﻝ ﮐﯽ ﻋﻤﺮ ﺗﮏ ﺑﮭﯽ ﺭﮨﺘﮯ
ﮨﯿﮟ ﺍﮔﺮ ﻣﺮﺩﻭﮞ ﮐﮯ ﭼﮩﺮﻭﮞ ﭘﺮ ﻣﮩﺎﺳﮯ ﺗﯿﺴﺮﯼ ﺩﮨﺎﺋﯽ ﻣﯿﮟ
ﺑﮭﯽ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮨﻮﮞ ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﯾﯽ ﮐﺴﯽ ﺍﻭﺭ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ
ﺍﺱ ﻗﺴﻢ ﮐﮯ ﻣﮩﺎﺳﻮﮞ ﺳﮯ ﺍﻥ ﮐﺎ ﺗﻌﻠﻖ ﮐﻢ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ۔ ﺍﻥ
ﺗﺸﺮﯾﺤﺎﺕ ﮐﯽ ﺭﻭﺷﻨﯽ ﻣﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﯿﮟ ﺗﻮ ﯾﮧ ﺑﺎﺕ ﻭﺍﺿﺢ ﻃﻮﺭ
ﭘﺮ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺁﺗﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺍﻭﺭ ﺗﯿﺴﺮﯼ ﺩﮨﺎﺋﯽ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﺴﺎﻥ
ﮐﮯ ﺟﺴﻢ ﻣﯿﮟ ﺑﻠﻮﻏﺖ ﮐﯽ ﮐﯿﻠﻮﮞ ﮐﮯ ﻇﺎﮨﺮ ﮨﻮﻧﮯ ﻭﺍﻟﯽ
ﺗﺒﺪﯾﻠﯿﺎﮞ ﻋﻤﻮﻣﺎْ ﭼﺎﺭ ﻭﺟﮧ ﮐﯽ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﯿﮟ ۔ ﻣﺜﻼْ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺍﻭﻝ
ﺍﻭﺭ ﺍﮨﻢ ﺗﺒﺪﯾﻠﯽ ﯾﮧ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺯﻧﺎﻧﮧ ﺍﻭﺭ ﻣﺮﺩﺍﻧﮧ ﺻﻔﺎﺕ ﮐﮯ
ﮨﺎﺭﻣﻮﻧﺰ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺩﮨﺎﺋﯽ ﮐﮯ ﺷﺮﻭﻉ ﻣﯿﮟ ﯾﺎ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺩﮨﺎﺋﯽ ﻣﯿﮟ
ﮐﺴﯽ ﺑﮭﯽ ﻭﻗﺖ ﻏﺪﻭﺩ ﺳﮯ ﺧﺎﺭﺝ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺧﻮﻥ ﻣﯿﮟ ﺷﺎﻣﻞ
ﮨﻮﻧﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ۔ ﭼﻮﻧﮑﮧ ﭼﮑﻨﺎﺋﯽ ﺧﺎﺭﺝ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮ
ﺳﮑﺘﯽ ﺍﺱ ﻟﺌﮯ ﻏﺪﻭﺩ ﮐﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﺳﺨﺖ ﻣﮩﺎﺳﮯ ﯾﺎ ﺩﺍﻧﮯ ﺑﻦ ﺟﺎﺗﮯ
ﮨﯿﮟ ﺍﻥ ﻣﮩﺎﺳﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺩﺍﻧﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺮﻭﮞ ﭘﺮ ﮐﺎﻻ ﺩﮬﺒﮧ ﺑﮭﯽ
ﺩﮐﮭﺎﺋﯽ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ ۔ ﺍﮔﺮ ﺍﺱ ﺩﮬﺒﮧ ﮐﻮ ﺩﺑﺎ ﮐﺮ ﻣﮩﺎﺳﮯ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ
ﭼﮑﻨﺎﺋﯽ ﺧﺎﺭﺝ ﮐﺮﯾﮟ ﺗﻮ ﺍﯾﮏ ﺗﻞ ﻧﻤﺎ ﭼﯿﺰ ﻧﮑﻞ ﺁﺗﯽ ﮨﮯ ﺍﺳﯽ
ﻧﺴﺒﺖ ﺳﮯ ﻣﮩﺎﺳﻮﮞ ﮐﻮ ﻋﺮﻑ ﻋﺎﻡ ﻣﯿﮟ ﮐﯿﻞ ﺑﮭﯽ ﮐﮩﺎ ﺟﺎﺗﺎ
ﮨﮯ ۔ ﺍﺱ ﮐﯿﻞ ﮐﮯ ﻧﮑﻠﻨﮯ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﻣﮩﺎﺳﮯ ﺧﺘﻢ ﮨﻮﻧﺎ
ﺷﺮﻭﻉ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ۔ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺍﮨﻢ ﺗﺒﺪﯾﻠﯽ ﯾﮧ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﯾﮏ
ﺧﺎﺹ ﻗﺴﻢ ﮐﮯ ﺟﺮﺍﺛﯿﻢ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺩﮨﺎﺋﯽ ﻣﯿﮟ ﺩﺱ ﺳﺎﻝ ﮐﯽ
ﻋﻤﺮ ﮐﮯ ﻧﻮ ﺟﻮﺍﻧﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﻟﮍﮐﯿﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﭘﺎﺋﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ۔
ﺑﯿﺲ ﺳﺎﻝ ﮐﯽ ﻋﻤﺮ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺟﺴﻢ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﺟﺮﺍﺛﯿﻢ ﺑﮩﺖ ﮐﻢ
ﺭﮦ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻥ ﺟﺮﺍﺛﯿﻢ ﮐﯽ ﺟﺴﻢ ﻣﯿﮟ ﻣﻮﺟﻮﺩﮔﯽ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ
ﺳﮯ ﺟﻠﺪ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺧﺎﺹ ﻗﺴﻢ ﮐﮯ ﺗﯿﺰﺍﺏ ﮐﺎ ﺗﻨﺎﺳﺐ ﺑﮍﮪ ﺟﺎﺗﺎ
ﮨﮯ ۔ ﺍﺱ ﺗﯿﺰﺍﺏ ﮐﮯ ﺑﮍﮬﻨﮯ ﺳﮯ ﭼﮑﻨﺎﺋﯽ ﮐﮯ ﻏﺪﻭﺩ ﮐﻮ ﺗﺤﺮﯾﮏ
ﻣﻠﺘﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﭼﮑﻨﺎﺋﯽ ﭘﯿﺪﺍ ﮐﺮﻧﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮ ﺩﯾﺘﮯ
ﮨﯿﮟ ۔ ﯾﻮﮞ ﺟﻠﺪ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﭼﮑﻨﺎﺋﯽ ﮐﯽ ﻧﺎﻟﯿﺎﮞ ﻟﯿﺲ ﺩﺍﺭ ﻣﺎﺩﮮ
ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺑﻨﺪ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺟﻠﺪ ﮐﮯ ﺑﯿﺮﻭﻧﯽ ﺳﻄﺢ ﭘﺮ
ﺳﺨﺖ ﮔﻮﻝ ﻣﮩﺎﺳﮯ ﺑﻨﻨﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ۔
ﺗﯿﺴﺮﯼ ﺍﮨﻢ ﺗﺒﺪﯾﻠﯽ ﯾﮧ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﺱ ﻋﻤﺮ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﮯ
ﺍﺣﺴﺎﺳﺎﺕ ﺍﻭﺭ ﺟﺬﺑﺎﺕ ﮐﻮ ﺗﺤﺮﯾﮏ ﻣﻠﻨﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ۔
ﻭﮦ ﺑﭽﭙﻦ ﮐﯽ ﻣﻌﺼﻮﻡ ﺣﺪ ﺳﮯ ﻧﮑﻞ ﮐﺮ ﺟﻮﺍﻧﯽ ﮐﯽ ﺍﻣﻨﮕﻮﮞ
ﺍﻭﺭ ﯾﺨﻠﯿﺎﺗﯽ ﺟﺬﺑﺎﺕ ﮐﯽ ﺣﺪﻭﺩ ﻣﯿﮟ ﻗﺪﻡ ﺭﮐﮭﺘﺎ ﮨﮯ ۔
ﻭﺟﻮﮨﺎﺕ
ﺳﺎﺋﻨﺲ ﺩﺍﻧﻮﮞ ﻧﮯ ﻣﺸﺎﮨﺪﺍﺕ ﺳﮯ ﺍﻧﺪﺍﺯﮦ ﻟﮕﺎﯾﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﺱ ﻋﻤﺮ
ﻣﯿﮟ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﮯ ﺟﺬﺑﺎﺕ ﻣﯿﮟ ﮔﮭﭩﻦ ﮨﻮ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺫﮨﻨﯽ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ
ﺁﺯﺍﺩﺍﻧﮧ ﮨﻮ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺩﺑﺎﺋﻮ ﻣﯿﮟ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮐﺮﮮ ﺗﻮ
ﺑﮭﯽ ﻣﮩﺎﺳﻮﮞ ﮐﮯ ﻧﮑﻠﻨﮯ ﮐﯽ ﺷﺮﺡ ﺗﻨﺎﺳﺐ ﺑﮍﮪ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ۔
ﺳﺎﺋﻨﺲ ﺩﺍﻥ ﺑﯿﺎﻥ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺟﻦ ﮔﮭﺮﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﻭﺍﻟﺪﯾﻦ ﮐﯽ
ﭼﭙﻘﻠﺶ ، ﮔﮭﺮﯾﻠﻮ ﻧﺎﭼﺎﻗﯽ ﺫﮨﻨﯽ ﺳﮑﻮﻥ ﻧﮧ ﮨﻮ ﺗﻮ ﺍﻥ ﻟﻮﮔﻮﮞ
ﮐﮯ ﭼﮩﺮﻭﮞ ﭘﺮ ﮐﯿﻞ ﻣﮩﺎﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﭼﻮﻧﮑﮧ
ﺑﻌﺾ ﺍﻭ ﻗﺎﺕ ﺍﺱ ﻗﺴﻢ ﮐﮯ ﻧﻮ ﺟﻮﺍﻥ ﺟﺬﺑﺎﺗﯽ ﺍﻧﺪﺍﺯ ﻣﯿﮟ
ﺍﭘﻨﮯ ﮐﯿﻠﻮﮞ ﮐﻮ ﮨﺎﺗﮫ ﻟﮕﺎﺗﮯ ﺭﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﻮ ﭼﮭﯿﮍﺗﮯ ﺭﮨﺘﮯ
ﮨﯿﮟ ﺍﺱ ﻟﺌﮯ ﻣﮩﺎﺳﮯ ﺯﺧﻤﯽ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﮐﯿﻞ ﺟﻠﺪ ﮐﮯ
ﺍﻧﺪﺭ ﺭﮦ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ﻟﮩٰﺬﺍ ﺍﻥ ﮐﮯ ﭼﮩﺮﻭﮞ ﭘﺮ ﻣﮩﺎﺳﻮﮞ ﮐﮯ ﺩﺍﻍ ﺭﮦ
ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﮔﺮ ﺍﯾﺴﮯ ﻣﮩﺎﺳﻮﮞ ﮐﻮ ﻧﮧ ﭼﮭﯿﮍﺍ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﯾﮧ ﻭﻗﺖ
ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺳﺎﺗﮫ ﺧﻮﺩ ﮨﯽ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﯽ ﻗﻮﺕ ﻣﺪﺍﻓﻌﺖ ﮐﮯ ﺯﯾﺮ ﺍﺛﺮ
ﺧﺘﻢ ﮨﻮﻧﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮨﻮﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﮐﻮﺋﯽ ﺩﺍﻍ ﭼﮭﻮﮌﮮ ﺑﻐﯿﺮ
ﭼﮩﺮﮮ ﺳﮯ ﺻﺎﻑ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﮔﺮ ﻣﻨﺎﺳﺐ ﺻﻔﺎﺋﯽ ﮐﯽ
ﮐﻤﯽ ﯾﺎ ﻣﮩﺎﺳﻮﮞ ﮐﻮ ﺑﺎﺭ ﺑﺎﺭ ﭼﮭﯿﮍﻧﮯ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺍﻥ
ﻣﮩﺎﺳﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﻔﯿﮑﺸﻦ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﯾﮧ ﭼﮩﺮﮮ ﭘﺮ ﺑﺪ
ﻧﻤﺎ ﺩﺍﻍ ﺑﮭﯽ ﭘﯿﺪﺍ ﮐﺮ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﺑﻌﺾ ﺍﻭﻗﺎﺕ ﮐﺎﻓﯽ
ﻋﺮﺻﮯ ﺗﮏ ﭼﮩﺮﮮ ﭘﺮ ﺭﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ ۔
ﺑﻌﺾ ﺍﻭﻗﺎﺕ ﻭﻗﺖ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺳﺎﺗﮫ ﻣﮑﻤﻞ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﺍﻭﺭ ﺑﻌﺾ
ﺍﻭ ﻗﺎﺕ ﻧﺼﻒ ﺣﺪ ﺗﮏ ﭨﮭﯿﮏ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﻣﮕﺮ ﺑﻌﺾ ﺍﻭﻗﺎﺕ
ﺍﯾﮏ ﭘﮭﻮﮌﮮ ﮐﯽ ﺷﮑﻞ ﺑﮭﯽ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﮐﺮ ﻟﯿﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﭘﺎﻧﯽ
ﺟﯿﺴﯽ ﺭﻃﻮﺑﺖ ﺑﮭﯽ ﺧﺎﺭﺝ ﮐﺮﺗﮯ ﺭﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﭽﮫ ﻋﺮﺻﮯ ﮐﮯ
ﺑﻌﺪ ﺟﺴﻢ ﮐﮯ ﻣﺪﺍ ﻓﻌﺘﯽ ﻧﻈﺎﻡ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﭨﮭﯿﮏ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﮯ
ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻋﻤﻮﻣﺎْ ﭼﮩﺮﮮ ﭘﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﺩﺍﮒ ﻧﮩﯿﮟ ﭼﮭﻮﮌﺗﮯ ﻣﮕﺮ
ﮐﺴﯽ ﮐﺴﯽ ﮐﯿﺲ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﺳﻮﺋﯽ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﯾﺎ ﭼﭽﮏ ﮐﮯ
ﻧﺸﺎﻥ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﮐﮯ ﺩﮬﺒﮯ ﭼﮭﻮﮌ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ ۔
ﯾﮩﺎﮞ ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﮐﺎ ﺫﮐﺮ ﮐﺮﻧﺎ ﺑﮭﯽ ﻣﻨﺎﺳﺐ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ
ﮨﻤﺎﺭﮮ ﻣﻠﮏ ﻣﯿﮟ ﺟﺐ ﺑﮭﯽ ﮐﺴﯽ ﮐﮯ ﭼﮩﺮﮮ ﭘﺮ ﻣﮩﺎﺳﮯ ﻧﮑﻠﺘﮯ
ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﯽ ﮐﻢ ﻋﻠﻤﯽ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺍﻥ ﻣﮩﺎﺳﻮﮞ ﮐﮯ
ﻧﮑﻠﻨﮯ ﮐﯽ ﻋﺠﯿﺐ ﻭ ﻏﺮﯾﺐ ﺗﺎﻭﯾﻠﯿﮟ ﭘﯿﺶ ﮐﺮﻧﮯ ﻟﮓ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ۔
ﮐﭽﮫ ﻟﻮﮒ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﻥ ﻣﮩﺎﺳﻮﮞ ﮐﺎ ﺟﺴﻢ ﮐﯽ ﮔﺮﻣﯽ ﺳﮯ
ﮐﻮﺋﯽ ﺗﻌﻠﻖ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﺮ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﮯ ﺟﺴﻢ ﮐﺎ ﺩﺭﺟﮧ ﺣﺮﺍﺭﺕ
98.4ﮐﮯ ﻗﺮﯾﺐ ﺭﮨﻨﺎ ﭼﺎﮨﺌﮯ ﺍﺱ ﺳﮯ ﮐﻢ ﯾﺎ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺩﺭﺟﮧ
ﺣﺮﺍﺭﺕ ﻓﻄﺮﯼ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ ﺑﻌﺾ ﻟﻮﮒ ﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ
ﺟﻮﺍﻧﯽ ﮐﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺁﻧﮯ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﭼﮩﺮﮮ ﭘﺮ ﮐﯿﻞ ﻧﮑﻠﺘﯽ
ﮨﯿﮟ ۔ ﯾﮧ ﺑﺎﺕ ﺑﮭﯽ ﺩﺭﺳﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﮩﺎﺳﮯ ﺟﻮﺍﻧﯽ ﯾﺎ ﺷﺒﺎﺏ
ﻧﺎﭘﻨﮯ ﮐﺎ ﭘﯿﻤﺎﻧﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﮯ ﺳﺐ ﮐﻮ ﺟﻮﺍﻧﯽ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺭ ﺁﺗﯽ ﮨﮯ
ﺍﻟﺒﺘﮧ ﮐﭽﮫ ﻟﻮﮒ ﺍﭘﻨﯽ ﮐﻢ ﻋﻠﻤﯽ ﺍﻭﺭ ﺟﮩﺎﻟﺖ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ
ﺍﯾﺴﯽ ﺍﻟﭩﯽ ﺳﯿﺪﮬﯽ ﺗﺎﻭﯾﻼﺕ ﭘﯿﺶ ﮐﺮﺗﮯ ﺭﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻧﻮ
ﺟﻮﺍﻧﻮﮞ ﮐﻮ ﮔﻤﺮﺍﮦ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﺮﺗﮯ ﺭﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ ۔ ﻧﻮ
ﺟﻮﺍﻧﻮﮞ ﮐﻮ ﭼﺎﮨﺌﮯ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺑﯿﺲ ﺳﺎﻝ ﮐﯽ ﻋﻤﺮ ﺗﮏ ﻧﮑﻠﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ
ﻣﮩﺎﺳﻮﮞ ﺳﮯ ﺧﻮﻓﺰﺩﮦ ﻧﮧ ﮨﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺟﺴﻢ ﮐﯽ ﮔﺮﻣﺎﺋﺶ
ﯾﺎ ﺟﻮﺍﻧﯽ ﮐﯽ ﮐﻤﯽ ﻭ ﺑﯿﺸﯽ ﭘﺮ ﻣﺤﻤﻮﻝ ﻧﮧ ﮐﺮﯾﮟ ﺑﯿﺲ ﺳﺎﻝ
ﺗﮏ ﮐﯽ ﻋﻤﺮ ﻣﮩﺎﺳﻮﮞ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺳﺎﺯﮔﺎﺭ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ۔
ﻣﮩﺎﺳﻮﮞ ﮐﮯ ﺿﻤﻦ ﻣﯿﮟ ﺳﺎﺋﻨﺲ ﺩﺍﻧﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﮐﺎ ﺑﮭﯽ
ﻣﺸﺎﮨﺪﮦ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﯾﮧ ﺧﺎﻧﺪﺍﻧﯽ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﺑﮭﯽ ﻧﮑﻠﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ
ﺍﻭﻻﺩ ﮐﮯ ﭼﮩﺮﮮ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﻣﺘﺎﺛﺮ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﻣﮕﺮ ﺍﯾﺴﮯ ﻟﻮﮒ ﺑﮭﯽ
ﺑﻌﺾ ﺍﻭ ﻗﺎﺕ ﺍﭘﻨﯽ ﮐﻢ ﻋﻠﻤﯽ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺍﻥ ﻣﮩﺎﺳﻮﮞ ﮐﮯ
ﻧﮑﻠﻨﮯ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﻋﺠﯿﺐ ﻭ ﻏﺮﯾﺐ ﺗﺎﻭﯾﻠﯿﮟ ﭘﯿﺶ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ
ﺍﻭﺭ ﺍﺷﯿﺎﺋﮯ ﺧﻮﺭﺩ ﻭﻧﻮﺵ ﮐﻮ ﻣﻮﺭﺩ ﺍﻟﺰﺍﻡ ﭨﮭﮩﺮﺍﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﻣﺜﻼْ
ﺑﻌﺾ ﺧﻮﺍﺗﯿﻦ ﯾﮧ ﺷﮑﺎﯾﺎﺕ ﻟﮯ ﮐﺮ ﺁﺗﯽ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺟﻮﻥ
ﺟﻮﻻﺋﯽ ﮐﯽ ﮔﺮﻣﯿﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﮉﮮ ﮐﮭﺎﺋﮯ ﺟﻦ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ
ﺟﺴﻢ ﮐﯽ ﮔﺮﻣﯽ ﻣﮩﺎﺳﻮﮞ ﮐﯽ ﺷﮑﻞ ﻣﯿﮟ ﻧﮑﻞ ﺭﮨﯽ ﮨﮯ۔ ﺑﻌﺾ
ﺧﻮﺍﺗﯿﻦ ﺍﻭﺭ ﻧﻮ ﺟﻮﺍﻥ ﯾﮧ ﺷﮑﺎﯾﺖ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ
ﮨﻮﭨﻠﻮﮞ ﯾﺎ ﮐﺴﯽ ﭘﺎﺭﭨﯽ ﻣﯿﮟ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻣﺼﺎﻟﻮﮞ ﻭﺍﻻ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﮐﮭﺎﯾﺎ
ﺟﺲ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺍﻥ ﮐﻮ ﮔﺮﻣﯽ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ ﺍﻥ ﮐﮯ ﭼﮩﺮﻭﮞ ﭘﺮ
ﮐﯿﻞ ﻧﮑﻠﻨﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﮐﭽﮫ ﻣﺮﯾﺾ ﺑﮍﺍ ﮔﻮﺷﺖ
ﮐﮭﺎﻧﮯ ﮐﻮ ﻣﻮﺭﺩ ﺍﻟﺰﺍﻡ ﭨﮭﮩﺮﺍﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﭼﻨﺪ ﺩﻥ
ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺑﮍﺍ ﮔﻮﺷﺖ ﮐﮭﺎﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﺎ ﭼﮩﺮﮦ ﻣﮩﺎﺳﻮﮞ ﮐﯽ ﺯﺩ
ﻣﯿﮟ ﺁ ﮔﯿﺎ ﺩﺭ ﺍﺻﻞ ﯾﮧ ﺗﻤﺎﻡ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﻟﻐﻮ ﺍﻭﺭ ﺟﺎﮨﻠﯿﺖ ﭘﺮ ﻣﺒﻨﯽ
ﮨﻮﺗﯽ ﮨﯿﮟ ۔ ﻣﮩﺎﺳﮯ ﺟﺴﻢ ﮐﯽ ﮔﺮﻣﯽ ﯾﺎ ﺳﺮﺩﯼ ﺩﺳﮯ ﻧﮩﯿﮟ
ﻧﮑﻠﺘﮯ ﺍﻭﺭ ﻧﮧ ﺍﻥ ﮐﺎ ﺗﻌﻠﻖ ﮐﮭﺎﺋﯽ ﺟﺎﻧﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﺍﺷﯿﺎﺀ ﮐﮯ ﮔﺮﻡ ﯾﺎ
ﭨﮭﻨﮉﺍ ﮨﻮﻧﮯ ﭘﺮ ﻣﻨﺤﺼﺮ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻟﺒﺘﮧ ﮔﺮﻡ ﭼﯿﺰﻭﮞ ﺳﮯ ﭘﺮ ﮨﯿﺰ
ﮐﺮﻧﮯ ﺳﮯ ﮐﺴﯽ ﺣﺪ ﺗﮏ ﻣﮩﺎﺳﻮﮞ ﮐﻮ ﺑﭽﺎﯾﺎ ﺟﺎ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ ۔
ﺧﻮﺍﺗﯿﻦ ﻣﯿﮏ ﺍﭖ ﺍﻭﺭ ﭼﮑﻨﯽ ﭼﯿﺰﯾﮟ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﺳﮯ ﭘﺮ ﮨﯿﺰ ﮐﺮﯾﮟ
ﺗﻮ ﮐﯿﻠﻮﮞ ﮐﯽ ﺷﺪﺕ ﻣﯿﮟ ﮐﻤﯽ ﮐﺎ ﻣﺸﺎﮨﺪﮦ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ ۔
ﻋﻼﺝ
ﺟﻮ ﺧﻮﺍﺗﯿﻦ ﭘﺎﻧﭻ ﻭﻗﺖ ﻧﻤﺎﺯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﻣﻨﮧ ﺩﮬﻮﺗﯽ ﮨﯿﮟ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ
ﺑﮭﯽ ﻣﮩﺎﺳﻮﮞ ﮐﯽ ﺷﺪﺕ ﻣﯿﮟ ﮐﻤﯽ ﮐﺎ ﻣﺸﺎﮨﺪﮦ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ ۔ ﯾﮧ
ﺑﺎﺕ ﺑﮭﯽ ﻧﻮﭦ ﮐﯽ ﮔﺌﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺟﻮ ﻟﻮﮒ ﻣﮩﺎﺳﻮﮞ ﮐﻮ ﭼﮭﯿﮍﺗﮯ
ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﻮ ﺩﺑﺎ ﮐﺮ ﮐﯿﻞ ﻧﮑﺎﻟﻨﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﻭﮦ
ﺑﻌﺾ ﺍﻭﻗﺎﺕ ﺍﭘﻨﮯ ﭼﮩﺮﮮ ﮐﯽ ﺟﻠﺪ ﮐﻮ ﺧﺮﺍﺏ ﮐﺮ ﻟﯿﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ
ﭘﮭﺮ ﺟﻠﺪ ﭘﺮ ﺩﮬﺒﮯ ﺍﻭﺭ ﻧﺸﺎﻧﺎﺕ ﭘﮍ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﻟﮩٰﺬﺍ ﯾﮧ ﺿﺮﻭﺭﯼ
ﮨﮯ ﮐﮧ ﺟﺐ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﻣﮩﺎﺳﻮﮞ ﮐﯽ ﺷﺪﺕ ﮐﺎ ﺳﺎﻣﻨﺎ ﮐﺮﻧﺎ ﮨﻮ ﺗﻮ
ﺍﭘﻨﮯ ﻓﯿﻤﻠﯽ ﮈﺍﮐﭩﺮ ﺳﮯ ﺭﺟﻮﻉ ﮐﺮﯾﮟ ﺍﻭﺭ ﻏﻠﻂ ﻗﺴﻢ ﮐﯽ
ﮐﺮﯾﻤﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﻟﻮﺷﻨﻮﮞ ﮐﮯ ﭼﮑﺮ ﻣﯿﮟ ﭘﮍ ﮐﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﭼﮩﺮﮮ ﮐﻮ ﺗﺒﺎﮦ
ﻧﮧ ﮐﺮﯾﮟ ﺭﻧﮕﺖ ﺧﺪﺍ ﮐﯽ ﺩﯾﻦ ﮨﮯ ﺍﺳﮯ ﻏﻠﻂ ﻗﺴﻢ ﮐﯽ ﮐﺮﯾﻤﻮﮞ
ﺳﮯ ﻧﮑﮭﺎﺭﻧﮯ ﮐﮯ ﭼﮑﺮ ﻣﯿﮟ ﭘﮍ ﮐﺮ ﻣﺰﯾﺪ ﺧﺮﺍﺏ ﻧﮧ ﮐﺮﯾﮟ ﻭﺭﻧﮧ
ﺭﻧﮕﺖ ﮐﮯ ﻧﮑﮭﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﺠﺎﺋﮯ ﻣﮩﺎﺳﻮﮞ ﮐﺎ ﺳﺎﻣﻨﺎ ﮐﺮﻧﺎ ﭘﮍﯾﮕﺎ ۔
ﻣﮩﺎﺳﻮﮞ ﮐﺎ ﻋﻼﺝ ﺫﺭﺍ ﻃﻮﯾﻞ ﻣﺪﺕ ﮐﺎ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﻋﻤﻮﻣﺎْ ﭼﮫ ﻣﺎﮦ
ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﺳﺎﻝ ﮐﺎ ﻋﺮﺻﮧ ﺍﻥ ﻣﮩﺎﺳﻮﮞ ﮐﻮ ﺩﺭﺳﺖ ﮨﻮﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﻟﮓ
ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﻋﻼﺝ ﮐﻮ ﻣﻨﺪﺭﺟﮧ ﺫﯾﻞ ﺣﺼﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺗﻘﺴﯿﻢ ﮐﯿﺎ
ﺟﺎﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ ۔ ﺟﺮﺍﺛﯿﻢ ﮐﺶ ﺍﯾﻨﭩﯽ ﺑﺎﺋﯿﻮﭨﮏ ﺩﻭﺍﺋﯿﮟ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ
ﻣﻮﺛﺮ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﯿﮟ ﺟﺐ ﻣﮩﺎﺳﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﻔﯿﮑﺸﻦ ﮨﻮ ﭼﮑﯽ ﮨﻮ ۔
ﻋﻮﺭﺗﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻣﺨﺼﻮﺹ ﮨﺎﺭﻣﻮﻧﺰ ﮐﮯ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﺳﮯ ﺗﯿﺴﺮﯼ
ﺩﮨﺎﺋﯽ ﻣﯿﮟ ﻧﮑﻠﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﻣﮩﺎﺳﮯ ﮐﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﻣﯿﮟ ﺳﯿﭩﺮﺍﺋﯿﮉﺯ
ﺑﮭﯽ ﻣﺪﺩ ﮔﺎﺭ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻥ ﮐﮯ ﭼﻮﻧﮑﮧ ﻣﻀﺮ ﺍﺛﺮﺍﺕ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ
ﺍﺱ ﻟﺌﮯ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺳﮑﺘﺎ ۔ ﻭﭨﺎﻣﻨﺰ ﮐﺎ
ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﺧﺎﺹ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﻣﮩﺎﺳﻮﮞ ﮐﮯ ﻋﻼﺝ ﻣﯿﮟ ﺑﮩﺖ ﻣﻮﺛﺮ
ﺛﺎﺑﺖ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺟﺐ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﺗﻤﺎﻡ ﺍﻗﺪﺍﻡ ﻧﺎﮐﺎﻡ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ ﮨﻮﮞ ۔
ﻣﮩﺎﺳﮯ ﺧﺸﮏ ﮨﻮ ﯾﺎ ﮐﻢ ﺳﺮﺥ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﭘﯿﭗ ﮨﻮ ﯾﺎ ﻧﮧ ﮨﻮ ﺍﯾﺴﯽ
ﺻﻮﺭﺗﺤﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﻭﭨﺎﻣﻨﺰ ﮐﺎ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﺑﮩﺖ ﮐﺎﺭﮔﺮ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ۔
1 ﻧﺴﺨﮧ ﻧﻤﺒﺮ
ﺍﯾﻠﻮﻭﯾﺮﺍ ﮐﺎ ﻣﺴﻠﺴﻞ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﺑﮭﯽ ﺍﯾﺴﯽ ﺟﻠﺪ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺑﮩﺘﺮﯾﻦ
ﮨﮯ۔ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺟﻠﺪ ﮐﯽ ﺑﯿﺮﻭﻧﯽ ﺳﻄﺢ ﭘﺮ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﻣﺴﺎﻡ ﺑﻨﺪ
ﮨﻮﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﺲ ﺳﮯ ﮐﯿﻞ ﻣﮩﺎﺳﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺩﺍﻧﻮﮞ ﮐﺎ ﺧﺎﺗﻤﮧ ﮨﻮ
ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﺎ ﻣﺴﻠﺴﻞ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﺟﺎﺭﯼ ﺭﮐﮭﻨﮯ ﺳﮯ ﺩﺍﻍ
ﺩﮬﺒﮯ ﺑﮭﯽ ﺧﺘﻢ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ
2 ﻧﺴﺨﮧ ﻧﻤﺒﺮ
ﻣﮩﺎﺳﻮﮞ ﮐﻮ ﺩﻭﺭ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻣﺴﻮﺭ ﮐﯽ ﺩﺍﻝ ﮐﺎ ﺍﺑﭩﻦ ﮔﺎﺋﮯ
ﮐﮯ ﺩﻭﺩﮪ ﻣﯿﮟ ﻣﻼ ﮐﺮ ﺩﻥ ﻣﯿﮟ ﺩﻭ ﺑﺎﺭ ﻟﮕﺎﻧﺎ ﻣﻔﯿﺪ ﮨﮯ۔ ﺍﺱ ﺳﮯ
ﻧﮧ ﺻﺮﻑ ﻣﮩﺎﺳﮯ ﺩﻭﺭ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺑﻠﮑﮧ ﭼﮩﺮﮮ ﮐﯽ ﺭﻭﻧﻖ ﺑﮭﯽ
ﺑﮍﮬﺘﯽ ﮨﮯ۔
3 ﻧﺴﺨﮧ ﻧﻤﺒﺮ
ﺭﻭﻏﻦِ ﺯﯾﺘﻮﻥ ﺍﻭﺭ ﺭﻭﻏﻦِ ﮐﺪّﻭ ﮨﻢ ﻭﺯﻥ ﻣﻼ ﮐﺮ ﻟﮕﺎﻧﮯ ﺳﮯ ﭼﮩﺮﮮ
ﭘﺮ ﺩﺍﻧﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﻣﺴﺎﻣﻮﮞ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﭘﮍﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮔﮍﮬﮯ ﭨﮭﯿﮏ
ﮨﻮ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺑﻠﮑﮧ ﯾﮧ ﺭﻭﻏﻦ ﭼﮩﺮﮮ ﭘﺮ ﭼﯿﭽﮏ ﮐﮯ ﺩﺍﻍ ﺑﮭﯽ
ﺩﻭﺭ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻣﺴﻠﺴﻞ ﭼﮫ ﻣﺎﮦ ﮐﮯ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﺳﮯ ﺑﮩﺘﺮ
ﻧﺘﺎﺋﺞ ﺑﺮﺁﻣﺪ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔
4 ﻧﺴﺨﮧ ﻧﻤﺒﺮ
ﺻﺒﺢ ﺷﺎﻡ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﻨﮧ ﮐﻮ ﺑﯿﺴﻦ ﺳﮯ ﺩﮬﻮﺋﯿﮟ۔ ﯾﮧ ﭼﮩﺮﮮ ﮐﯽ ﻧﮧ
ﺻﺮﻑ ﻣﻨﺎﺳﺐ ﺻﻔﺎﺋﯽ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ ﺑﻠﮑﮧ ﮐﯿﻞ ﻣﮩﺎﺳﻮﮞ ﮐﺎ ﺳﺒﺐ
ﺑﻨﻨﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﭼﮑﻨﺎﺋﯽ ﮐﯽ ﺍﺿﺎﻓﯽ ﻣﻘﺪﺍﺭ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﮐﻢ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ
ﯾﻮﮞ ﮐﯿﻞ ﻣﮩﺎﺳﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺩﺍﻧﻮﮞ ﮐﺎ ﺳﻠﺴﻠﮧ ﺗﮭﻤﻨﮯ ﻟﮕﺘﺎ ﮨﮯ۔
5 ﻧﺴﺨﮧ ﻧﻤﺒﺮ
ﭘﻤﭙﻞ ﺳﮯ ﻓﻮﺭﯼ ﺟﺎﻥ ﭼﮭﮍﺍﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺍﯾﮏ ﺑﺮﺗﻦ ﻣﯿﮟ ﻧﻤﮏ
ﻣﻼ ﻧﯿﻢ ﮔﺮﻡ ﭘﺎﻧﯽ ﻟﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺭﻭﺋﯽ ﮐﻮ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﻧﭽﻮﮌ ﮐﺮ ﮐﯿﻞ
ﻣﮩﺎﺳﮯ ﯾﺎ ﺩﺍﻧﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﺟﮕﮧ ﭘﺮ ﺭﮐﮫ ﮐﺮ ﺩﺑﺎﺋﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺗﯿﻦ ﭼﺎﺭ
ﺩﻓﻌﮧ ﯾﮩﯽ ﻋﻤﻞ ﺩﮨﺮﺍﺋﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﮨﺮ ﺑﺎﺭ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺍﻟﮓ ﺍﻟﮓ ﺭﻭﺋﯽ ﮐﺎ
ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮐﺮﯾﮟ۔ ﯾﮧ ﻃﺮﯾﻘﮧ ﺗﮭﻮﮌﺍ ﺗﮑﻠﯿﻒ ﺩﮦ ﮨﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﺱ ﺳﮯ
ﭘﻤﭙﻞ ﺧﺘﻢ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ۔
6 ﻧﺴﺨﮧ ﻧﻤﺒﺮ
ﺳﻨﮕﺘﺮﮮ ﮐﮯ ﭼﮭﻠﮑﮯ ﺳُﮑﮭﺎ ﮐﺮ ﺑﺎﺭﯾﮏ ﭘﯿﺲ ﻟﯿﮟ۔ ﺍﺱ ﺳﻔﻮﻑ
ﮐﻮ ﭘﺎﻧﯽ ﻣﯿﮟ ﯾﺎ ﺧﺸﮏ ﺟﻠﺪ ﻭﺍﻟﮯ، ﺩﻭﺩﮪ ﻣﯿﮟ ﺣﻞ ﮐﺮ ﮐﮯ
ﭼﮩﺮﮮ ﭘﺮ ﻣﻠﯿﮟ۔ ﺍﺱ ﺳﮯ ﭼﮩﺮﮮ ﮐﮯ ﺩﺍﻍ ﺩﮬﺒﮯ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﻨﺴﯿﺎﮞ
ﺩﻭﺭ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﯽ۔
7 ﻧﺴﺨﮧ ﻧﻤﺒﺮ
ﮐﯿﻞ ﻣﮩﺎﺳﻮﮞ ﭘﺮ ﻗﺎﺑﻮ ﭘﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮐﮍﻭﮮ ﺑﺎﺩﺍﻡ ﭘﯿﺲ ﮐﺮ ﺍﻭﺭ
ﺩﻭﺩﮪ ﻣﯿﮟ ﻣﻼ ﮐﺮ ﻟﮕﺎﺋﯿﮟ۔
8 ﻧﺴﺨﮧ ﻧﻤﺒﺮ
ﺷﮑﺮ ﮐﺎ ﻣﺸﺮﻭﺏ ﯾﺎ ﺷﺮﺑﺖ ﻋﻨﺎﺏ ﭘﯿﻨﮯ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﮐﯿﻞ ﻣﮩﺎﺳﮯ
ﺧﺘﻢ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔
9 ﻧﺴﺨﮧ ﻧﻤﺒﺮ
ﻣﻮﻟﯽ ﮐﺎ ﭘﺎﻧﯽ ﭼﮩﺮﮮ ﭘﺮ ﻟﮕﺎﻧﮯ ﺳﮯ ﮐﯿﻞ ﻣﮩﺎﺳﮯ ﺧﺘﻢ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﮯ
ﮨﯿﮟ۔
10 ﻧﺴﺨﮧ ﻧﻤﺒﺮ
ﮐﯿﻞ ﻣﮩﺎﺳﻮﮞ ﮐﮯ ﺧﺎﺗﻤﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮐﺎﻟﯽ ﻣﺮﭺ ﮐﻮ ﻣﭩﯽ ﮐﮯ
ﮔﮭﮍﮮ ﭘﺮ ﺭﮔﮍ ﮐﺮ ﻟﮕﺎﺋﯿﮟ۔
11 ﻧﺴﺨﮧ ﻧﻤﺒﺮ
ﻧﯿﻢ ﮐﯽ ﮐﻮﻧﭙﻠﯿﮟ ﭘﯿﺲ ﮐﺮ ﭼﮩﺮﮮ ﭘﺮ ﻟﯿﭗ ﮐﺮ ﻟﯿﺠﯿﮯ ﺍﻭﺭ 30
ﻣﻨﭧ ﺑﻌﺪ ﭼﮩﺮﮦ ﺩﮬﻮ ﮈﺍﻟﯿﮯ۔ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻣﺴﻠﺴﻞ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﺳﮯ
ﭼﮩﺮﮮ ﮐﮯ ﺩﺍﻍ ﺩﮬﺒﮯ، ﮐﯿﻞ ﻣﮩﺎﺳﮯ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﺩﻭﺭ ﮨﻮﮞ ﮔﮯ،
ﺭﻧﮕﺖ ﻣﯿﮟ ﻧﮑﮭﺎﺭ ﺁﺋﯿﮕﺎ ﺍﻭﺭ ﮔﺮﻣﯽ ﺩﺍﻧﮯ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﻨﺴﯿﺎﮞ ﻭﻏﯿﺮﮦ
ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﻧﮑﻠﯿﮟ ﮔﯽ۔
12 ﻧﺴﺨﮧ ﻧﻤﺒﺮ
ﻣﮩﺎﺳﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﭘﺲ ﺑﮭﺮﮮ ﺩﺍﻧﻮﮞ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻟﮩﺴﻦ ﺑﮭﯽ ﺑﮩﺘﺮﯾﻦ
ﺍﯾﻨﭩﯽ ﺑﺎﺋﯿﻮﭨﮏ ﮐﺎ ﮐﺎﻡ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﺩﻥ ﻣﯿﮟ ﭼﺎﺭ ﺳﮯ ﭘﺎﻧﭻ ﺑﺎﺭ
ﺍﺱ ﮐﻮ ﻣﮩﺎﺳﻮﮞ ﭘﺮ ﺭﮔﮍﯾﮟ۔

سنگترہ کا استعمال اور اس کے فوائد

دل Heart اور Stomach معدہ کو قوت بخشتا ہے خون اور صفرا کی تیزی کو ساکن کرتا ہے۔ پیاس بجھاتا ہے ۔ جگر کی سوزش کو دور کرتا ہے۔ وباء کی زہر ...